” رازِ دل “

” نہ کرو وفا کی بات رہنے دویہ فقط ہے حسین خواب ، رہنے دو” اسکو پا کر بھی کیا ملا یاروںدل میں یہ اصطراب رہنے دو” اب کہاں ہے وفا زمانے میںکیا ہے اس کی اوقات رہنے دو “ جو کرے بات اب محبت کیاسکا خانہ خراب رہنے دو “ کتنا سجتا تھا وہContinue reading “” رازِ دل “”

Create your own website, free on WordPress.com.Create your own website.
Start free