” نہ کرو وفا کی بات رہنے دو
یہ فقط ہے حسین خواب ، رہنے دو”
اسکو پا کر بھی کیا ملا یاروں
دل میں یہ اصطراب رہنے دو”
اب کہاں ہے وفا زمانے میں
کیا ہے اس کی اوقات رہنے دو “
جو کرے بات اب محبت کی
اسکا خانہ خراب رہنے دو “
کتنا سجتا تھا وہ دلہن بن کر
یادوں میں بس وہ رات رہنے دو “
اسکو پا کر یہ حال کر بیٹھا
مجھ پر اسکا عذاب رہنے دو “
درد دیتا ہے وہ تو بن مانگے
ِاس پر ، اس کا ثواب رہنے دو “
میں کہیں سچ بول ہی نہ دوں
نہ کرو اب اسکی بات ، رہنے دو “
زندگی ! تو نے بھی دیا کیا ہے ؟
کیا لوں تجھ سے حساب ، رہنے دو “
ناظر ! سارا نہ حال لکھ دینا
تھوڑی خالی کتاب رہنے دو “
