” رازِ دل “

” نہ کرو وفا کی بات رہنے دو
یہ فقط ہے حسین خواب ، رہنے دو”

اسکو پا کر بھی کیا ملا یاروں
دل میں یہ اصطراب رہنے دو”

اب کہاں ہے وفا زمانے میں
کیا ہے اس کی اوقات رہنے دو “

جو کرے بات اب محبت کی
اسکا خانہ خراب رہنے دو “

کتنا سجتا تھا وہ دلہن بن کر
یادوں میں بس وہ رات رہنے دو “

اسکو پا کر یہ حال کر بیٹھا
مجھ پر اسکا عذاب رہنے دو “

درد دیتا ہے وہ تو بن مانگے
ِاس پر ، اس کا ثواب رہنے دو “

میں کہیں سچ بول ہی نہ دوں
نہ کرو اب اسکی بات ، رہنے دو “

زندگی ! تو نے بھی دیا کیا ہے ؟
کیا لوں تجھ سے حساب ، رہنے دو “

ناظر ! سارا نہ حال لکھ دینا
تھوڑی خالی کتاب رہنے دو “

Published by Nazir Abidi

Professional Writer and logo Designer

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started